اسلام آباد: وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم معمول کے پارلیمانی عمل کا حصہ ہے اور کسی ہنگامی اقدام کے طور پر پیش نہیں کی گئی۔ہفتہ کو گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسودہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے جبکہ پارلیمانی کمیٹی اس پر تفصیلی غور جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی مسودے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور اراکین پارلیمانی قواعد کے تحت ترامیم تجویز کر سکتے ہیں۔مجوزہ ترمیم کے اہم نکات میں آرٹیکل 243 میں تبدیلیاں، چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے کا قیام اور آئینی معاملات کے لیے ایک علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی تجویز شامل ہے۔آئینی عدالت کے حوالے سے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ یہ عدالت آئینی مقدمات کے لیے مخصوص فورم فراہم کرے گی جس سے موجودہ عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے جامع پارلیمانی بحث اور کمیٹی جانچ پڑتال کے بعد ہی حتمی شکل دیے جائیں گے۔
